31 اکتوبر 2026 - 22:24
سعودی طیاروں نے اپنے ہی اجرتیوں پر بمباری کر دی؛ لحج میں یمنی فوج کی اہم پیشقدمی

یمن کی مسلح افواج نے حالیہ دنوں میں صوبہ لحج کے شمالی علاقوں میں ریاض کے اجرتی مسلح ملیشیاؤں کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں یمنی فوج نے المقاطره کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور تعاقب و مقابلے کی کارروائیاں 'طور الباحه' تک جاری رکھی ہیں۔ اس پیش رفت سے یمنی فوج صوبائی مرکز سے صرف 80 کلومیٹر اور عدن شہر سے 110 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی ہے، جو ریاض سے وابستہ نام نہاد 'حکومت' کے لئے ایک سنگین دھچکا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ انصاراللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے اعلان کیا کہ یمنی فوج نے صوبہ لحج کے شمال میں واقع ضلع المقاطره کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ریاض سے وابستہ اجرتی ملیشیاؤں کا تعاقب 'طور الباحہ' تک جاری ہیں۔

یمن کے مقامی ذرائع اور الصحافۃ الیمنیۃ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی جنگی طیاروں نے ریاض کی اجرتی ملیشیا نام نہاد "درع الوطن (وطن کی ڈھال)" کو بمباری کا نشانہ بنایا، جب وہ المقاطرہ سے طور الباحہ کی طرف پسپا ہو رہی تھیں اور انہیں بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔

اس سے قبل بھی متعدد رپورٹیں موصول ہوئی تھی کہ سعودی طیارے صوبہ تعز میں اپنے ہی اجرتیوں پر بمباریاں کرتے رہے ہیں۔

ادھر یمن کی مسلح افواج نے سوق الربوع، المقاطرہ کے اسٹراٹیجک قلعے اور الجوازعہ کے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور

نقيل کُربہ کے محاذ سے پیش قدمی کے دوران ریاض درجنوں اجرتی ہلاک یا زخمی ہوئے اور باقی ماندہ افراد اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

فوجی ماہرین کے مطابق، ان علاقوں کی سعودی اجرتیوں سے آزادی پر صنعاء کی افواج کے لئے ضلع المضاربہ کے ہیڈکوارٹر 'الشطین' کی طرف پیش قدمی کا راستہ ہموار کر دیتا ہے اور انہیں ریاض سے وابستہ قوتوں کو تین اطراف سے گھیر لینے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

ماہرین نے المقاطره محاذ پر پیش قدمی کو اسٹراٹیجک لحاظ سے اہم قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے ذوباب ہوائی اڈے کے قریب تعینات العمالقہ نامی اجرتی ملیشیا کی سپلائی لائنوں پر دباؤ پڑے گا اور ان کے ٹھکانوں کے مواصلاتی راستے منقطع ہونگے اور مذکورہ ملیشیا کے ہتھیار ڈالنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha